مسجد اقصیٰ کی فریاد

مجھے زبان ملے تو میری فریاد عرش بریں تک جا پہنچے.
ساز بن پاوں تو میری مغموم لے سن کر کائنات کی ہر تھرکتی شے چپ سادھ لے اور ساکت ہو جائے.
لفظوں میں ڈھل سکوں تو میری مظلومیت کا بیان کچھ اس فصاحت و بلاغت سے ہو کہ ادب کے سارے شہہ پارے  رنجیدہ ہو کر میری فریاد کے آگے سر جھکا لیں.
میں مسجد اقصی ہوں.
میں بیت المقدس ہوں.

مجھے حضرت یعقوب ع س نے حکم الہہی کی تعمیل کرتے ہوئے عدم موجودگی سے وجود کا روپ بخشا.
میں حضرت سلیمان ع س کی ہیبت اور ان کی سلطنت کے عظمت کا نشان ہیکل سلیمانی بنی.
مجھے خداوند عالم نے حضرت عزیز ع س کو حیات و ممات کی گردش کا سبق سکھلانے کے لئے منتخب کیا.
میں ایلیائے روم بنی.
میں معراج مصطفی کی پہلی منزل ، قبلہ اول کی حیثیت سے معروف ہوئی.
میرے دامن میں سیہ بختوں کو اپنی گناہوں کا راز چھپانے اور اپنی غلطیوں سے پاک ہونے کا موقع ملا.
میں اعلی و ارفع مقام پر فائز، خداوند کی  منتخب کردہ جلیل القدر جگہ ہوں.
مین مسجد اقصی ہوں
میں بیت المقدس ہوں.
.مجھے شاہ بابل نے مٹانے کے لئے مسمار کر ڈالا
مگر میں آج بھی دھرتی کے سینے پر   پوری آن بان سے موجود ہوں.
مجھے رومیوں نے گرایا مگر آج میں ہوں مگر روم کی تہذیب مٹ گئی.
صلیبیوں نے نے مجھے پیروان محمد سے چھینا …
مجھے مغلوب کرنے کی کوشس نئی تو نہیں ہے.
مجھے زیر کرنے کی سازش بہت سوں نے کی ہے .
آج پھر ایک بار صہیونیت مجھہ پہ قبضے کے درپے ہے.
میں مسجد اقصی ہوں.
میں بیت المقدس ہوں
.
میں منتظر ہوں کسی جانشین عمر ، کسی مثل فاروق کی.
مجھے امید ہے کہ کوئی تو ہو گا جو  صلاح الدین بن کر میری حرمت کی خاطر اٹھے گا.
میں کسی ایوبی کی راہ تکتے ہوئے ساری  امت کو پکار رہی ہوں.
کوئی تو کہے گا کہ لبیک اقدس.
کوئی تو اٹھے گا اور با آواز بلند یہ نعرہ لگایے گا کہ القدس لنا.
کاش کوئی مرد حر ، کوئی مومن صادق جان جائے کہ اندھیری رات میں امت کی خستہ حالی کا ماتم کرنے والی یہ میں، مسجد اقصی ، بیت المقدس ہوں.
اے کاش کسی کو معلوم ہو جائے کہ میں مسجد اقصی ہوں
میں بیت المقدس ہوں

.

Leave a Reply