زینب ہم شرمندہ ہیں۔۔

زینب ہم شرمندہ ہیں۔۔  اس اخلاق باختہ، ہوس زدہ اور غیر شائستہ معاشرے میں جب تجھ جیسی کم سن بیٹی کی معصومیت بھی محفوظ نہ ہو، تو پھر اس معاشرہ سے کس خیر اور کس بھلائی کی امید باندھی جاسکتی۔۔۔ یہ تخم خنزیر کے پیدا شدہ ، ابلیسیت کے ماحول کے پروردہ اور خباثت و خناسیت پہ آمادہ کتے، جو معصومیت اور انسانیت کے شکار کے لیے گھات لگائے، رال ٹپکائے اور منہ پھلائے تاک میں رہتے ہیں، بدقسمتی سے یہ اسی معاشرہ کا حصہ ہیں، جہاں انسانیت سانس لے رہی ہے۔۔۔ بیٹیوں کو فروخت کرنے کا سہرا تو خیر ایک ارزل سربراہ مملکت کے سر بھی سجا ہوا ہے۔۔۔ یہاں کل ایک بہن کو سر بازار الف ننگا گھمانے کی دلخراش یاد تازہ تازہ تھی کہ ایک معصوم بیٹی کی معصومیت سے ہاتھ رنگین اور ہوس کو تسکین پہنچا کر قتل کرنے کا دلدوز واقعہ بھی سامنے آیا۔۔ یہ درندوں کی بستی ہے یا انسانوں کی ‘ہستی’۔۔۔ خیر جنگل تو نہیں ہے۔۔۔ کیونکہ وہاں کوئی نہ کوئی قانون تو ہوگا ہی۔۔ جبکہ یہاں کوئی قاعدہ ہے نہ قانون، دستور ہے نہ کوئی اصول ۔۔۔۔۔۔ اخلاق، شرافت، شائستگی، مدنیت اور معاشرتی اقدار کا پوچھنا ہی کیا۔۔۔۔! ایسے حرام زادوں کو جب تک چند دنوں کے اندر سر عام الٹا لٹکانے اور نشان عبرت بنانے کا چلن عام نہ ہوگا، اس وقت تک یہ رسوا کن تماشے ہوتے رہیں گے۔۔

.

Leave a Reply